page contents Whatsapp Status

05 October 2017

لفظ خاموش ترازُو سے نکل آیا ہے

لفظ خاموش ترازُو سے نکل آیا ہے
اور معنی بھی نیا ھُو سے نکل آیا ہے
سوچ میری کبھی آزاد سفر کرتی تھی
اب تو زندان پکھیرُو سے نکل آیا ہے
کتنی آزادی سے اب لوگ اُسے سوچتے ہیں
جیسے وہ فِکرِ مَن و تُو سے نکل آیا ہے
دل میں پیوست اگر ہو تو مزہ آ جائ
تیر جو حلقہِ اَبرُو سے نکل آیا ہے
خاک سے خوُشبوئیں نکلی تھیں سرِ دشت کبھی
اور اب پُھول بھی خُوشبُو سے نکل آیا ہے
تھوڑی محنت تو ہمیں کرنا پڑی ہے حسان
یہ جو دریا سا لَبِ جُو سے نکل آیا ہے
حسان احمد اعوان
read more "لفظ خاموش ترازُو سے نکل آیا ہے"

غنچۂ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا کہ یوں

غنچۂ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا کہ یوں
بوسہ کو پوچھتا ہوں میں منہ سے مجھے بتا کہ یوں
پرسش طرز دلبری کیجیے کیا کہ بن کہے
اس کے ہر ایک اشارہ سے نکلے ہے یہ ادا کہ یوں
رات کے وقت مے پیے ساتھ رقیب کو لیے
آئے وہ یاں خدا کرے پر نہ کرے خدا کہ یوں
غیر سے رات کیا بنی یہ جو کہا تو دیکھیے
سامنے آن بیٹھنا اور یہ دیکھنا کہ یوں
بزم میں اس کے روبرو کیوں نہ خموش بیٹھیے
اس کی تو خامشی میں بھی ہے یہی مدعا کہ یوں
میں نے کہا کہ بزم ناز چاہیے غیر سے تہی
سن کے ستم ظریف نے مجھ کو اٹھا دیا کہ یوں
مجھ سے کہا جو یار نے جاتے ہیں ہوش کس طرح
دیکھ کے میری بے خودی چلنے لگی ہوا کہ یوں
کب مجھے کوئے یار میں رہنے کی وضع یاد تھی
آئنہ دار بن گئی حیرت نقش پا کہ یوں
گر ترے دل میں ہو خیال وصل میں شوق کا زوال
موج محیط آب میں مارے ہے دست و پا کہ یوں
جو یہ کہے کہ ریختہ کیونکے ہو رشک فارسی
گفتۂ غالبؔ ایک بار پڑھ کے اسے سنا کہ یوں
مرزا اسداللہ خاں غالب

read more "غنچۂ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا کہ یوں"

04 October 2017

بے ساختہ آواز کے پیکَر سے گزرجاؤں

بے ساختہ آواز کے پیکَر سے گزرجاؤں
منظَر سےگزرتے ہوئے منظَر سے گزرجاؤں
اِس بات پہ موقوف ہے صدیوں کی مسافت
اُس آنکھ میں ٹھہروں کہ برابَر سے گزرجاؤں
مِٹی کی طرح تُو بھی مِری حَد سے نِکل جائے
پانی کی طرح مَیں بھی تِرے سَر سے گزر جاؤں
مجھ سامنے رکھے ہوں مِرے پھول مِرے خواب
اکثَر سے اُلجھتا ہُوا اکثَر سے گزر جاؤں
اِس بار کوئی اور طلب ہو مِرے دل میں
اِس بار تو موجود و میسّر سے گزر جاؤں
شورش سے کروں کارگہِ خاک کو پامال
امکان میں رکھے ہوئے اِس ڈَر سے گزر جاؤں
اِک حشر اُٹھا دے مِری شوریدہ مِزاجی
خاموش اگر گنبدِ بے دَر سے گزر جاؤں
جس طرح گزرتا ہوں مَیں صحرائے جنوں سے
ایسے ہی کسی روز سمندَر سے گزر جاؤں
دَم بھر کو رکوں قریہء خاشاک میں آزَر
پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس پَر سے گزر جاؤں
دلِاوَر علی آزَر


read more "بے ساختہ آواز کے پیکَر سے گزرجاؤں"

صحرا کی اشتہا نہ سمندر کے خوف سے

صحرا کی اشتہا نہ سمندر کے خوف سے
ترکیب پا رہا ہُوں مَیں اندر کے خوف سے
چندھیا گئی ہے روشنی آنکھوں میں ڈوب کر
دھندلا گیا ہے آئنہ منظر کے خوف سے
سائے میں جسم ڈھل گئے آسیب جل گئے
اندر کا خوف مر گیا باہر کے خوف سے
رنگوں کا جال بچھ گیا پھولوں کی لاش پر
تتلی کی نیند اُڑ گئی بستر کے خوف سے
پامال ہو رہا ہے ہواؤں کا قافلہ
خوشبو رکی ہوئی ہے گلِ تر کے خوف سے
اے دوست اب کے مدِ مقابل کوئی نہیں
کمزور پڑ گیا ہوں برابر کے خوف سے
اُس کے لیے تو خود کشی آزر حلال ہو
کچھ بھی نہ کر سکے جو مقدر کے خوف سے
دلاور علی آزر

read more "صحرا کی اشتہا نہ سمندر کے خوف سے"

اسی چراغ نے روشن کیا ستارہءنور

اسی چراغ نے روشن کیا ستارہءنور
خمیرِ زاتِ محمد ہے استعارہءنور
برائے سمتِ مدینہ سفر شروع کرے
سمجھ گیا ہے مسافر اگر اشارہءنور
وہ سبز روشنی گُنبد میں رقص کرتی ہے
سُنہری جالیاں کہتی ہیں جس کو دھارہءنور
چمک دمک ہے الگ اِس کی ہر دوعالم میں
قدِ حضور ہے در اصل اِک منارہءنور
فقیر رات کی چادر سے چن رہے ہُوں گے
یہ ریزہ ، ریزہ تبرّک یہ پارہ ، پارہءنور
چمک رہی ہے سفینے کے آئینےمیں وہ موج
دمک رہا ہے کہیں راہ میں کنارہءنور
مَیں ایسی آتشِ سرسبز کی تلاش میں ہُوں
جو میرے دل میں فروزاں کرے شرارہءنور
ہم اُن کی دید کو بے تاب ہیں علی آزر
وہ جن کا چہرہ مبارک ہے شاہ پارہءنور
دلاورعلی آزر

read more "اسی چراغ نے روشن کیا ستارہءنور"