page contents Whatsapp Status: غنچۂ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا کہ یوں

05 October 2017

غنچۂ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا کہ یوں

غنچۂ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا کہ یوں
بوسہ کو پوچھتا ہوں میں منہ سے مجھے بتا کہ یوں
پرسش طرز دلبری کیجیے کیا کہ بن کہے
اس کے ہر ایک اشارہ سے نکلے ہے یہ ادا کہ یوں
رات کے وقت مے پیے ساتھ رقیب کو لیے
آئے وہ یاں خدا کرے پر نہ کرے خدا کہ یوں
غیر سے رات کیا بنی یہ جو کہا تو دیکھیے
سامنے آن بیٹھنا اور یہ دیکھنا کہ یوں
بزم میں اس کے روبرو کیوں نہ خموش بیٹھیے
اس کی تو خامشی میں بھی ہے یہی مدعا کہ یوں
میں نے کہا کہ بزم ناز چاہیے غیر سے تہی
سن کے ستم ظریف نے مجھ کو اٹھا دیا کہ یوں
مجھ سے کہا جو یار نے جاتے ہیں ہوش کس طرح
دیکھ کے میری بے خودی چلنے لگی ہوا کہ یوں
کب مجھے کوئے یار میں رہنے کی وضع یاد تھی
آئنہ دار بن گئی حیرت نقش پا کہ یوں
گر ترے دل میں ہو خیال وصل میں شوق کا زوال
موج محیط آب میں مارے ہے دست و پا کہ یوں
جو یہ کہے کہ ریختہ کیونکے ہو رشک فارسی
گفتۂ غالبؔ ایک بار پڑھ کے اسے سنا کہ یوں
مرزا اسداللہ خاں غالب