page contents Whatsapp Status: اسی چراغ نے روشن کیا ستارہءنور

04 October 2017

اسی چراغ نے روشن کیا ستارہءنور

اسی چراغ نے روشن کیا ستارہءنور
خمیرِ زاتِ محمد ہے استعارہءنور
برائے سمتِ مدینہ سفر شروع کرے
سمجھ گیا ہے مسافر اگر اشارہءنور
وہ سبز روشنی گُنبد میں رقص کرتی ہے
سُنہری جالیاں کہتی ہیں جس کو دھارہءنور
چمک دمک ہے الگ اِس کی ہر دوعالم میں
قدِ حضور ہے در اصل اِک منارہءنور
فقیر رات کی چادر سے چن رہے ہُوں گے
یہ ریزہ ، ریزہ تبرّک یہ پارہ ، پارہءنور
چمک رہی ہے سفینے کے آئینےمیں وہ موج
دمک رہا ہے کہیں راہ میں کنارہءنور
مَیں ایسی آتشِ سرسبز کی تلاش میں ہُوں
جو میرے دل میں فروزاں کرے شرارہءنور
ہم اُن کی دید کو بے تاب ہیں علی آزر
وہ جن کا چہرہ مبارک ہے شاہ پارہءنور
دلاورعلی آزر