page contents Whatsapp Status: بے ساختہ آواز کے پیکَر سے گزرجاؤں

04 October 2017

بے ساختہ آواز کے پیکَر سے گزرجاؤں

بے ساختہ آواز کے پیکَر سے گزرجاؤں
منظَر سےگزرتے ہوئے منظَر سے گزرجاؤں
اِس بات پہ موقوف ہے صدیوں کی مسافت
اُس آنکھ میں ٹھہروں کہ برابَر سے گزرجاؤں
مِٹی کی طرح تُو بھی مِری حَد سے نِکل جائے
پانی کی طرح مَیں بھی تِرے سَر سے گزر جاؤں
مجھ سامنے رکھے ہوں مِرے پھول مِرے خواب
اکثَر سے اُلجھتا ہُوا اکثَر سے گزر جاؤں
اِس بار کوئی اور طلب ہو مِرے دل میں
اِس بار تو موجود و میسّر سے گزر جاؤں
شورش سے کروں کارگہِ خاک کو پامال
امکان میں رکھے ہوئے اِس ڈَر سے گزر جاؤں
اِک حشر اُٹھا دے مِری شوریدہ مِزاجی
خاموش اگر گنبدِ بے دَر سے گزر جاؤں
جس طرح گزرتا ہوں مَیں صحرائے جنوں سے
ایسے ہی کسی روز سمندَر سے گزر جاؤں
دَم بھر کو رکوں قریہء خاشاک میں آزَر
پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس پَر سے گزر جاؤں
دلِاوَر علی آزَر