page contents Whatsapp Status: صحرا کی اشتہا نہ سمندر کے خوف سے

04 October 2017

صحرا کی اشتہا نہ سمندر کے خوف سے

صحرا کی اشتہا نہ سمندر کے خوف سے
ترکیب پا رہا ہُوں مَیں اندر کے خوف سے
چندھیا گئی ہے روشنی آنکھوں میں ڈوب کر
دھندلا گیا ہے آئنہ منظر کے خوف سے
سائے میں جسم ڈھل گئے آسیب جل گئے
اندر کا خوف مر گیا باہر کے خوف سے
رنگوں کا جال بچھ گیا پھولوں کی لاش پر
تتلی کی نیند اُڑ گئی بستر کے خوف سے
پامال ہو رہا ہے ہواؤں کا قافلہ
خوشبو رکی ہوئی ہے گلِ تر کے خوف سے
اے دوست اب کے مدِ مقابل کوئی نہیں
کمزور پڑ گیا ہوں برابر کے خوف سے
اُس کے لیے تو خود کشی آزر حلال ہو
کچھ بھی نہ کر سکے جو مقدر کے خوف سے
دلاور علی آزر