page contents Whatsapp Status: وصل میں ایسی محرومی تھی مل کر تازہ دم نہ ہُوئے

04 October 2017

وصل میں ایسی محرومی تھی مل کر تازہ دم نہ ہُوئے

وصل میں ایسی محرومی تھی مل کر تازہ دم نہ ہُوئے
رُوح کی اُلجھن بڑھ جانے سے جسم کے جھگڑے کم نہ ہُوئے
آنکھ میں آ کر ہر چہرے نے ایک نئی صورت پہنی
یوں تو سب ہم شکل تھے لیکن اک دوجے میں ضَم نہ ہُوئے
پیاس کی شدت صحرا کو بھی پیچھے چھوڑنے والی ہے
دریا سُوکھ گیا بل آخر ہونٹ ہمارے نَم نہ ہُوئے
آن کی آن ہے دشت میں روشن ہر ساعت کا عکسِ جمیل
وقت ہی وہ تصویر ہے جس کے نقش کبھی مَدھَم نہ ہُوئے
دونوں اپنی اپنی آگ میں جلتے ہیں اک بستر پر
آنکھ مری اپنی نہ بنی تھی خواب ترے محرم نہ ہُوئے


عُمرگذاری بے خبری سے اپنے آپ میں گُم رہ کر
خواہش کی تو وہ نہ ملا اور وہ جو ملا تو ہَم نہ ہُوئے
کاٹ نہ کر پایا میں آزر اِن ہونٹوں کے سلنے میں
کیسے کیسے اِسم تھے لیکن مُجھ سے پڑھ کر دَم نہ ہُوئے
دلاورعلی آزر