page contents Whatsapp Status: نفی احساس تھا اِثبات کہاں تک جاتا

04 October 2017

نفی احساس تھا اِثبات کہاں تک جاتا

نفی احساس تھا اِثبات کہاں تک جاتا
لے کے تُو لب پہ سوالات کہاں تک جاتا
صبح تک آنکھ میں آیا ہے نکل کر دل سے
جانے یہ خوابِ طلسمات کہاں تک جاتا
دیکھتا ہُوں مَیں اُسے خود سے جُدا ہُوتے ہُوئے
سوچتا ہُوں وہ مرے ساتھ کہاں تک جاتا
مختصر یہ کہ مَیں بوسہ بھی غنیمت سمجھا
یوں ہی دورانِ ملاقات کہاں تک جاتا
یہ ہیولہ جو رُکا ہے تری دُنیا بن کر
یہ پسِ ارض و سماوات کہاں تک جاتا
اولیں دن کا بھی احوال بتایا ہم کو
صاحبِ کشف و کرامات کہاں تک جاتا
اس نے کاندھوں سے شب و روز جھٹک ڈالے ہیں
بوجھ اُٹھائے ہُوئے دن رات کہاں تک جاتا


مل گیا مجھ کو بھی اک آئنہ خانے کا سُراغ
ہُوگئی خود سے ملاقات کہاں تک جاتا
چاند تارے تو مرے بس میں نہیں ہیں آزر
پھول لایا ہُوں مرا ہاتھ کہاں تک جاتا
دلاورعلی آزر