page contents Whatsapp Status: زمین اپنے ہی محور سے ہٹ رہی ہوگی

04 October 2017

زمین اپنے ہی محور سے ہٹ رہی ہوگی

زمین اپنے ہی محور سے ہٹ رہی ہوگی
وہ دن بھی دور نہیں زیست چھٹ رہی ہوگی
بڑھا رہا ہے یہ احساس میری دھڑکن کو
گھڑی میں سوئی کی رفتار گھٹ رہی ہوگی
میں جان لوں گا کہ اب سانس گھٹنے والا ہے
ہرے درخت سے جب شاخ کٹ رہی ہوگی
نئے سفر پہ روانہ کیا گیا ہے تمہیں
تمہارے پاؤں سے دھرتی لپٹ رہی ہوگی
غلط کہا تھا کسی نے یہ گاؤں والوں سے
چلو کہ شہر میں خیرات بٹ رہی ہوگی
فلک کی سمت اچھالی تھی جل پری میں نے
ستارے ہاتھ میں لے کر پلٹ رہی ہوگی
بدن میں پھیل رہی ہے یہ کائنات آزر
ہماری آنکھ کی پتلی سمٹ رہی ہوگی
دلآورعلی آزر