page contents Whatsapp Status: ہَٹ گئے چشمِ تصور سے گُماں کے پردے

04 October 2017

ہَٹ گئے چشمِ تصور سے گُماں کے پردے


ہَٹ گئے چشمِ تصور سے گُماں کے پردے
آکے تصویر میں اب رنگِ تعلق بھر دے
اُس سے ملنا تو اُسے عید مبارک کہنا
یہ بھی کہنا کہ مری عید مبارک کر دے
جانے رعنائی مجھے خواب دکھائے کیسا
جانے بینائی مری آنکھ کو کیا منظر دے
اے محبت میں تری سختی نہیں جَھل سکتا
کچھ رعایت تو مجھے ٹوٹے ہوئے دل پر دے
کب تلک میں تری سوچوں کے تسلسل میں رہوں
اب مجھے چاک پہ رکھ اور کوئی پیکر دے
سب زر و مال کے شیدائی نظر آتے ہیں
کون دُنیا کو رعونت سے بھری ٹھوکر دے


یہ سمندر کا علاقہ ہے سو مرضی اُس کی
جس پہ موتی کی عنایت ہو جسے پتھر دے
مَیں بہت چین سے بیٹھا ہوں سرِ شاخ آزر
جس کو اُڑنے کی تمنا ہے اُسی کو پَر دے
دلاورعلی آزر